(۱۹۷۷۹) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی أَبُو سَلاَّمٍ الدِّمَشْقِیُّ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ زَیْدٍ ، قَالَ : کُنْتُ رَجُلاً رَامِیًا ، فَکَانَ یَمُرُّ بِی عُقْبَۃُ بْنُ عَامِرٍ فَیَقُولُ : یَا خَالِدُ اخْرُجْ بِنَا نَرْمِی ، فَلَمَّا کَانَ ذَاتَ یَوْمٍ أَبْطَأَتْ عَنْہُ ، فَقَالَ : یَا خَالِدُ تَعَالَ أُخْبِرُک مَا قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إنَّ اللَّہَ یُدْخِلُ بِالسَّہْمِ الْوَاحِدِ ثَلاَثَۃَ نَفَرِ الْجَنَّۃَ : صَانِعُہُ یَحْتَسِبُ فِی صَنْعَتِہِ الْخَیْرَ وَالرَّامِی بِہِ وَمُنْبِلُہُ وَلَیْسَ اللَّہْوُ إِلاَّ فِی ثَلاَثٍ : تَأْدِیبُ الرَّجُلِ فَرَسَہُ وَمُلاَعَبَتُہُ أَہْلَہُ وَرَمْیُہُ بِقَوْسِہِ وَنَبْلِہِ وَمَنْ تَرَکَ الرَّمْیَ بَعْدَ مَا عَلِمَہُ فَہِیَ نِعْمَۃٌ تَرَکَہَا ، أَوْ کَفَرَہَا۔
(١٩٧٧٩) حضرت خالد بن زید (رض) فرماتے ہیں کہ میں ایک ماہر تیر انداز تھا۔ حضرت عقبہ بن عامر (رض) جب کبھی میرے پاس سے گزرتے تو فرماتے کہ اے خالد ! چلو آؤ تیر اندازی کرتے ہیں۔ ایک دن میں نے کچھ سستی کی تو انھوں نے فرمایا : کہ اے خالد (رض) ! آؤ میں تمہیں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک حدیث سناتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہ اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا۔ اس کے بنانے والے کو اگر اس نے اس کے بنانے میں خیر کا ارادہ کیا۔ اس کے چلانے والے کو اور اس کے سیدھا کرنے والے کو۔ دل لگی کے تین کام ایسے ہیں جن میں ثواب ملتا ہے۔ ایک آدمی کا اپنے گھوڑے کو سدھانا، دوسرا آدمی کا اپنی بیوی سے صحبت کرنا اور تیسرا کمان سے تیر پھینکنا اور اس کو سیدھا کرنا۔ جس شخص نے تیر اندازی سیکھنے کے بعد اسے چھوڑ دیا۔ اس نے اس نعمت کی ناشکری کی۔