(۱۹۸۱۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْبَصْرِیُّ ، عَنْ عُمَارَۃَ ، قَالَ : شُجَّ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَکُسِرَتْ رَبَاعِیَتُہُ ، وَذَلِقَ مِنَ الْعَطَشِ حَتَّی جَعَلَ یَقَعُ عَلَی رُکْبَتَیْہِ ، وَتَرَکَہُ أَصْحَابُہُ ، فَجَائَ أُبَیّ بْنُ خَلَفٍ یَطْلُبُ بِدَمِ أَخِیہِ أُمَیَّۃَ بْنِ خَلَفٍ ، فَقَالَ : أَیْنَ ہَذَا الَّذِی یَزْعُمُ أَنَّہُ نَبِیٌّ فَلْیَبْرُزْ لِی ، فَإِنْ کَانَ نَبِیًّا قَتَلَنِی ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَعْطُوْنِی الْحَرْبَۃَ فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، وَبِکَ حِرَاکٌ ؟ قَالَ : إنِّی قَدِ اسْتَسْقَیْت اللَّہَ دَمَہُ ، فَأَخَذَ الْحَرْبَۃَ ، ثُمَّ مَشَی إلَیْہِ فَطَعَنَہ فَصَرَعَہُ عَنْ دَابَّتِہِ وَحَمَلَہُ أَصْحَابُہُ فَاسْتَنقََذُوہُ فَقَالُوا : مَا نَرَی بِکَ بَأْسًا ، فَقَالَ : إِنَّہُ قَدِ اسْتَسْقَی اللَّہَ دَمِی إنِّی لأجِدُ لَہَا مَا لَوْ کَانَ عَلَی مُضَرَ وَرَبِیعَۃَ لَوَسِعَتْہُمْ۔
(بخاری ۲۹۱۱۔ مسلم ۱۴۱۶)
(١٩٨١٩) حضرت عمارہ فرماتے ہیں کہ غزوہ أحد میں نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ مبارک زخمی ہوگیا تھا اور آپ کے سامنے والے دانت بھی ٹوٹ گئے تھے۔ آپ پیاس کی شدت سے بےچین ہو کر گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے تھے اور آپ کے بہت سے ساتھی بھی ادھر ادھر منتشر ہوگئے تھے۔ اس جنگ میں ابی بن خلف اپنے بھائی امیہ بن خلف کا بدلہ لینے کے لیے موجود تھا۔ اس نے للکار کر کہا کہ وہ شخص جو اپنے آپ کو نبی سمجھتا ہے، وہ میرے سامنے آئے، اگر وہ واقعی نبی ہے تو وہ مجھے مار ڈالے گا۔ اس پر اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھے نیزہ دو ۔ لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! آپ تو شدید پیاس اور گرمی کا شکار ہیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس کا خون پلائے گا۔ آپ نے نیزہ پکڑا، اس کی طرف تشریف لے گئے اور اسے نیزہ مار کر سواری سے نیچے گرا دیا۔ اس کے ساتھی اسے بچا کرلے گئے اور اسے تسلی دی کہ تمہیں زیادہ چوٹ نہیں آئی۔ اس نے کہا کہ انھوں نے اللہ سے میرا خون مانگا ہے، مجھے اس زخم کی اتنی تکلیف ہو رہی ہے کہ اگر قبیلہ مضر اور قبیلہ ربیعہ میں تقسیم کردی جائے تو سب بےچین ہوجائیں۔