(۱۹۸۳۷) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ إیَادٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی کَبْشَۃَ الْبَرَائِ بْنِ قَیْسٍ السَّکُونی ، قَالَ : کُنْتُ جَالِسًا مَعَ سَعْدٍ وَہُوَ یُحَدِّثُ أَصْحَابَہُ ، فَقَالَ : فِی آخَرِ حَدِیثِہِ : أَیُّہَا النَّاسُ ، إنَّ اللَّہَ أَرَادَ بِکُمُ الْیُسْرَ، وَلَمْ یُرِدْ بِکُمُ الْعُسْرَ وَاللَّہِ وَاللَّہِ لَغَزْوَۃٌ فِی سَبِیلِ اللہِ أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ حَجَّتَیْنِ ، وَلَحَجَّۃٌ أَحُجُّہَا إلی بَیْتِ اللہِ أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ عُمْرَتَیْنِ وَلَعُمْرَۃٌ أَعْتَمِرُہَا أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ ثَلاَثَۃٍ آتیہنَّ بَیْتَ الْمَقْدِسِ۔
(١٩٨٣٧) حضرت ابو کبشہ براء بن قیس سکونی (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضرت سعد (رض) کے ساتھ بیٹھا تھا وہ اپنے ساتھیوں سے بیان فرما رہے تھے۔ اپنے بیان کے آخر میں انھوں نے فرمایا کہ اللہ تم سے آسانی کا ارادہ فرماتا ہے اللہ تعالیٰ تم سے مشکل کا ارادہ نہیں فرماتا۔ خدا کی قسم ! خدا کی قسم ! اللہ کے راستے میں ایک غزوہ دو حج کرنے سے زیادہ افضل ہے، ایک حج میرے نزدیک دو مرتبہ عمرے کرنے سے بہتر ہے اور ایک عمرہ میرے نزدیک تین مرتبہ بیت المقدس جانے سے بہتر ہے۔