(۱۹۸۶۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، أَنَّ أَوَّلَ رَجُلٍ سَلَّ سَیْفًا فِی سَبِیلِ اللہِ الزُّبَیْرُ ، نُفِحَ نَفْحَۃٌ ، أُخِذَ رَسُولُ اللہِ ، فَخَرَجَ الزُّبَیْرُ یَشُقُّ النَّاسَ بِسَیْفِہِ وَرَسُولُ اللہِ بِأَعْلَی مَکَّۃَ ، قَالَ فَلَقِیَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا لَکَ یَا زُبَیْرُ ؟ قَالَ : أُخْبِرْت أَنَّک أُخِذْت ؟ قَالَ : فَصَلَّی عَلَیْہِ وَدَعَا لَہُ وَلِسَیْفِہِ۔ (عبدالرزاق ۲۰۴۲۹۔ احمد فی فضائل الصحابۃ ۱۲۶۶)
(١٩٨٦٩) حضرت عروہ (رض) فرماتے ہیں کہ اللہ کے راستے میں سب سے پہلا تلوار چلانے والے حضرت زبیر (رض) ہیں، ایک مرتبہ یہ افواہ پھیلی کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کافروں نے گرفتار کرلیا ہے، اس پر حضرت زبیر (رض) تلوار پکڑ کر لوگوں میں سے گذرتے ہوئے گئے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ کے بالائی حصہ میں تھے، ملاقات ہوئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تو پوچھا کہ اے زبیر ! کیا ہوا ؟ حضرت زبیر (رض) نے عرض کیا کہ مجھے خبر ملی تھی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کافروں نے پکڑ لیا ہے۔ اس پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں دعا دی اور ان کی تلوار کے لیے بھی دعا فرمائی۔