(۱۹۸۹۸) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا ہِشَامٌ الدَّسْتَوَائِیُّ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ ، عَنْ أَبِی سلاَّمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الأَزْرَقِ ، عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إنَّ اللَّہَ لَیُدْخِلُ بِالسَّہْمِ الْوَاحِدِ ثَلاَثَۃً الْجَنَّۃَ : صَانِعَہُ یَحْتَسِبُ فِی صَنْعَتِہِ الْخَیْرَ وَالرَّامِیَ بِہِ وَالْمُمِدَّ بِہِ ، وَقَالَ : ارْمُوا وَارْکَبُوا ، وَأَنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ أَنْ تَرْکَبُوا ، وَکُلُّ مَا یَلْہُو بِہِ الْمَرْئُ الْمُسْلِمُ بَاطِلٌ إِلاَّ رَمْیَہُ بِقَوْسِہِ وَتَأْدِیبَہُ فَرَسَہُ وَمُلاَعَبَتَہُ أَہْلَہُ ، فَإِنَّہُنَّ مِنَ الْحَقِّ۔ (ترمذی ۱۶۳۷۔ احمد ۴/۱۴۸)
(١٩٨٩٨) حضرت عقبہ بن عامر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا ، اس کے بنانے والے کو جو اس کی بناوٹ میں خیر کی نیت رکھے، اس کے چلانے والے کو اور اس کے سیدھا کرنے والے کو۔ تیر چلاؤ اور جانور کی سواری کرو۔ میرے نزدیک تمہارا تیر اندازی کرنا سواری کرنے سے بہتر ہے۔ ہر کھیل مسلمان کے لیے مناسب ہے، البتہ کمان سے تیر چلانا، گھوڑے کو سدھانا اور بیوی سے دل لگی کرنا حق کے کھیل ہیں۔