(۱۹۸۹۹) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَیْحٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُمَیْرٍ الرُّعَیْنِیِّ ، أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا عَلِیَّ التجیبی ، أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا رَیْحَانَۃَ یَقُولُ : غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَأَصَبْنَا بَرْدَ لَیْلَۃٍ ، فَلَقَدْ رَأَیْت الرَّجُلَ یَحْفِرُ الْحُفْرَۃَ ، ثُمَّ یَدْخُلُ فِیہَا ، وَیَضَعُ تُرْسَہُ عَلَیْہِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ یَحْرُسُنَا اللَّیْلَۃَ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ : أَنَا ، فَقَالَ : مِمَّنْ أَنْتَ ؟ فَانْتَسَبَ لَہُ فَدَعَا لَہُ بِخَیْرٍ ، ثُمَّ قَالَ : مَنْ یَحْرُسُنَا اللَّیْلَۃَ ؟ فَقُلْت : أَنَا ، فَقَالَ : مِمَّنْ أَنْتَ ؟ فَقُلْت : أَبُو رَیْحَانَۃَ ، فَدَعَا لِی بِدُونِ دُعَائٍ لِلأَنْصَارِیِّ ، ثُمَّ قَالَ : حُرِّمَتِ النَّارُ عَلَی ثَلاَثَۃِ أَعْیُنٍ : عَیْنٌ سَہِرَتْ فِی سَبِیلِ اللہِ ، وَعَیْنٌ بَکَتْ ، أَوْ دَمَعَتْ مِنْ خَشْیَۃِ اللہِ۔
وَسَکَتَ مُحَمَّدُ بْنُ سُمَیْرٍ ، عَنِ الثَّالِثَۃِ ، لَمْ یَذْکُرْہَا۔ (بخاری ۲۷۴۸۔ احمد ۴/۱۳۴)
(١٩٨٩٩) حضرت ابو ریحانہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک جہاد پر نکلے۔ ایک رات بہت شدید سردی تھی سردی کی وجہ سے لوگوں کا یہ حال تھا کہ گڑھا کھود کر اس میں داخل ہوتے اور اس پر اپنی زین ڈال دیتے۔ اس موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ آج رات ہمارا پہرہ کون دے گا ؟ ایک انصاری آدمی نے کہا کہ میں پہرہ دوں گا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم کون ہو ؟ اس پر اس نے اپنا نسب نامہ بیان کیا تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے خیر کی دعا دی۔ پھر آپ نے فرمایا کہ آج رات ہمارا پہرہ کون دے گا ؟ میں نے کہا میں پہرہ دوں گا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا تم کون ہو ؟ میں نے کہا : میں ابو ریحانہ ہوں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے لیے ان انصاری صحابی کے علاوہ کوئی دعا فرمائی پھر فرمایا کہ تین آنکھیں ایسی ہیں جن پر جہنم کی آگ حرام ہے، ایک وہ آنکھ جو اللہ کے راستے میں بیدار رہی اور دوسری وہ آنکھ جس نے اللہ کے خوف سے آنسو بہایا۔ راوی محمد بن سمیر نے تیسری آنکھ کا ذکر نہیں کیا۔ (شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ تیسری آنکھ وہ ہے جو غیر محرم کو دیکھنے سے جھک گئی) ۔