حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بَقِیُّ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَ: حدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ الْعَبْسِیُّ، قَالَ:
(۱۹۹۱۶) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ الضَّبِّیُّ ، عَنْ بَیَانَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قُلْتُ : إنَّا قَوْمٌ نَصِیدُ بِہَذِہِ الْکِلاَبِ ، قَالَ : إذَا أَرْسَلْت کِلاَبَک الْمُعَلَّمَۃَ وَذَکَرْت اسْمَ اللہِ عَلَیْہَا فَکُلْ مِمَّا أَمْسَکْنَ عَلَیْک ، وَإِنْ قَتَلْنَ إِلاَّ أَنْ یَأْکُلْنَ ، فَإِنْ أَکَلْنَ فَلاَ تَأْکُلْ ، فَإِنِّی أَخَافُ أَنْ یَکُونَ إنَّمَا أَمْسَکَ عَلَی نَفْسِہِ ، وَإِنْ خَالَطَہَا کِلاَبٌ أُخْرَی فَلاَ تَأْکُلْ۔ (بخاری ۵۴۸۳۔ ابوداؤد ۲۸۴۲)
(١٩٩١٦) حضرت عدی بن حاتم (رض) سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا ہم لوگ کتوں کے ذریعے شکار کرتے ہیں، اس کا کیا حکم ہے ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اگر تم اپنے سدھائے ہوئے کتے کو بھیجو اور انھیں بھیجتے وقت اللہ کا نام لو تو اس کے لائے شکار کو کھالو خواہ کتے اس شکار کو مار ڈالیں، اگر وہ اس میں سے کھا لیں تو پھر تم اس شکار کو مت کھاؤ کیونکہ مجھے خوف ہے کہ جس شکار میں سے اس نے خود کھایا ہے اسے اپنے لیے دبوچا ہوگا۔ اگر تمہارے کتوں کے ساتھ دوسرے کتے بھی مل جائیں تو پھر بھی اس شکار کو مت کھاؤ۔