(۱۹۹۴۸) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ ، عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْقَاسِمَ عَنِ الرَّجُلِ یُرْسِلُ الْکَلْبَ الْمُعَلَّمَ فَیَأْخُذُ الصَّیْدَ فَیَقْتُلُہُ فَیَجِدُ مَعَہُ کِلاَبًا غَیْرَ مُعَلَّمَۃٍ ، قَالَ : إِنْ کَانَ یَعْلَمُ ، أَنَّ کَلْبَہُ الْمُعَلَّمَ قَتَلَہ فَلْیَأْکُلْ ، وَإِنْ شَکَّ فَلاَ یَدْرِی لَعَلَّ غَیْرَ الْکَلْبِ شَرَکَہُ فَلاَ یَأْکُلُ۔
(١٩٩٤٨) اسامہ بن زید (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم (رض) سے سوال کیا کہ اگر کوئی آدمی اپنے سدھائے ہوئے کتے کو شکار پر چھوڑے اور وہ شکار کو پکڑ کر مار ڈالے۔ لیکن یہ آدمی اپنے کتے کے ساتھ کچھ سدھائے کتے دیکھے تو کیا حکم ہے ؟ حضرت قاسم نے فرمایا کہ اگر اسے معلوم ہوجائے کہ سدھائے ہوئے کتے نے اسے قتل کیا ہے تو اسے کھالے اور اگر اسے شک ہو کہ کسی دوسرے کتے نے اس کے ساتھ مل کر اسے قتل کیا ہے تو اسے نہ کھائے۔