(۱۹۹۴۷) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ جَمِیلِ بْنِ زَیْدِ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ، عَنْ صَیْدِ الْکِلاَبِ ، فَقَالَ : أَلَیْسَتْ مُقَلَّدَۃً ؟ قَالَ : قُلْتُ : بلی ، انْطَلَقْت أَقُودُہَا ؟ قَالَ : أَکُلُّہَا تَقُودُ ؟ قَالَ : قُلْتُ : مِنْہَا مَا أَقُودُ ، وَمِنْہَا مَا یَتْبَعُنِی ، قَالَ : إذَا رَأَیْت الصَّیْدَ ، وَخَلَعْت کَلْبَک ، وَذَکَرْت اسْمَ اللہِ علیہ فَکُلْ مَا اصَّادَ ، وَأَمَّا الْکَلْبُ التَّابِعُ ، فَإِنْ أَخَذَہُ فَلاَ تلبس بِہِ ، إِلاَّ أَنْ تَجِدہُ حَیًّا فَتَذْبَحَہُ ، وَإِمَّا أَنْ یَفْتَرِسَہُ کَلْبٌ لَمْ تُرْسِلْہُ فَذَلِکَ حَرَامٌ۔
(١٩٩٤٧) حضرت جمیل بن زید (رض) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر (رض) سے کتوں کے شکار کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ کیا انھیں شکار کے لیے سدھایا گیا ہے ؟ میں نے کہا ہاں ! اور میں ان کے پیچھے چلتا ہوں۔ انھوں نے فرمایا کہ سب کتے تمہارے آگے چلتے ہیں ؟ میں نے کہا نہیں کچھ میرے پیچھے بھی آتے ہیں۔ حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا کہ جب تم کوئی شکاردیکھو اور اپنے کتے کو اس پر چھوڑو اور اللہ کا نام لو تو جو شکار وہ کرے وہ کھالو۔ البتہ اگر تمہارے پیچھے آنے والا کتا بھی شکار کرے تو اسے ان کے ساتھ نہ ملاؤ اگر وہ شکار تمہیں زندہ مل جائے تو اسے ذبح کرلو، اگر تم نے کتے کو نہیں چھوڑا بلکہ اس نے اسے خود شکار کیا اور مار ڈالا تو یہ حرام ہے۔