(۲۰۳۳۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْحَکَمَ ، وَحَمَّادًا وَقَتَادَۃَ ، عَنْ رَجُلَیْنِ اشْتَرَکَا ، فَجَائَ أَحَدُہُمَا بِأَلْفَیْنِ ، وَجَائَ الآخَرُ بِأَلْفٍ فَاشْتَرَکَا وَاشْتَرَطَا ، أَنَّ الْوَضِیعَۃَ بَیْنَہُمَا وَالرِّبْحَ نِصْفَینِ ، فَقَالَ : الرِّبْحُ عَلَی مَا اشْتَرَطَا عَلَیْہِ وَالْوَضِیعَۃُ عَلَی الْمَالِ۔
(٢٠٣٣٤) حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم، حضرت حماد اور حضرت قتادہ سے سوال کیا کہ اگر دو آدمیوں نے باہم شراکت پر کام کیا، ایک دو ہزار اور دوسرا ایک ہزار لایا۔ انھوں نے یہ شرط لگائی کہ نقصان دونوں کے درمیان ہوگا اور نفع بھی دونوں کو آدھا آدھا ملے گا۔ اس کا کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ نفع طے کردہ شرط کے مطابق ہوگا اور نقصان اصل مال میں سے پورا کیا جائے گا۔