(۲۰۹۸۶) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی حَازِمٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الْحِنْطَۃُ بِالْحِنْطَۃِ وَالشَّعِیرُ بِالشَّعِیرِ یَدًا بِیَدٍ کَیْلاً بِکَیْلٍ وَزْنًا بِوَزْنٍ لاَ بأس فَمَنْ زَادَ أو اسْتَزَادَ ، فَقَدْ أَرْبَی إلاَّ مَا اخْتَلَفَتْ أَلْوَانُہُ۔ (مسلم ۸۴۔ احمد ۲/۲۶۲)
(٢٠٩٨٦) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ گندم کو گندم کے بدلے دینا، جو کو جو کے بدلے فوری ادائیگی کے ساتھ، ایک جیسے ماپ کے ساتھ اور ایک جیسے وزن کے ساتھ دینے میں کوئی حرج نہیں، اگر کسی نے زیادتی کی تو اس نے سود دیا، البتہ جن چیزوں کے رنگ مختلف ہوجائیں تو ان کی کمی زیادتی میں کوئی حرج نہیں۔