(۲۱۲۰۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عطَائٍ الْمَدِینِیِّ ، عَنْ أَبِیہِ ، أَنَّ رَجُلاً بَاعَ رَجُلاً سِلْعَۃً ، فَادَّعَی الْمُشْتَرِی عَیْبًا ، فَخَاصَمَہُ إلَی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، فَقَالَ الْمُشْتَرِی : احْلِفْ بِاللَّہِ : مَا بِعْتنِی عیبًا، فَقَالَ: الْبَائِعُ: أَحْلِفُ بِاللَّہِ: لَقَدْ بِعْتُکَ وَمَا أَعْلَمُ بِہَا عَیْبًا ، قَالَ : فَقَالَ : عُثْمَانُ : أَنْصَفَک الرَّجُلُ۔
(٢١٢٠٥) حضرت عطاء مدینی کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے کچھ سامان بیچا، پھر مشتری نے عیب کا دعویٰ کردیا، اور وہ یہ جھگڑا لے کر حضرت عثمان بن عفان (رض) کے پاس حاضر ہوا، مشتری نے کہا کہ اللہ کی قسم کھاؤ کہ جب تم نے مجھے بیچا تھا تو اس میں کوئی عیب نہیں تھا، بائع نے کہا کہ میں قسم کھاتا ہوں کہ جب میں نے تمہیں یہ چیز بیچی تھی تو مجھے اس میں کسی عیب کا علم نہیں تھا، حضرت عثمان (رض) نے فرمایا کہ اس آدمی نے تم سے انصاف کیا۔