(۲۱۲۰۶) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی الزُّبَیْرُ بْنُ جُنَادَۃَ ، قَالَ : سَأَلْتُ سَالِمًا عَنْ أَرْضٍ بَیْضَائَ اشْتَرَیْتُہَا مِمَّنْ یَمْلِکُ رَقَبَتِہَا لأَبْنِیَ فِیہَا ، قَالَ : لاَ بَأْسَ ، قَالَ : فَقُلْت : یُؤَدَّی عَنْہَا الْخَرَاجَ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ ، قُلْتُ : أُقِرُّ بِالصَّغَارِ ، قَالَ : إنَّمَا ذَلِکَ فِی رُؤُوسِ الرِّجَالِ۔
(٢١٢٠٦) حضرت زبیر بن جنادہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم سے سوال کیا کہ کیا میں خراج والی بنجر زمین کو کھیتی باڑی کے لیے خرید سکتا ہوں ؟ انھوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں، میں نے کہا کہ کیا اس کا خراج ادا کیا جائے گا ؟ انھوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں، میں نے کہا کہ میں چھوٹوں کے لیے اقرار کرتا ہوں، انھوں نے کہا کہ یہ بات مردوں کے سروں میں ہوتی ہے۔