(۲۱۲۶۳) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَص ، عَنْ کُلَیْبِ بْنِ وَائِلٍ ، قَالَ : قُلْتُ لاِبْنِ عُمَرَ : أَتَانِی دِہْقَانٌ عَظِیمُ الْخَرَاجِ فَقَالَ : تقبَّلنی مِنَ الْعَامِلِ لاَ أَتَقَبَّلُہُ لِاُعْطٰی عَنْہُ شَیْئًا إلاَّ لِیُؤْمِنَہُ عَامِلُہُ وَیَضْطَرِبَ فِی حَوَائِجِہِ ، فَلَمْ أَلْبَثْ إلاَّ قَلِیلاً حَتَّی أَتَانِی بِصَحِیفَتِی ، فَقُال : جَزَاکَ اللَّہُ خَیْرًا ، وَحَمَلَنِی عَلَی دَابَّۃٍ وَأعطانی دَرَاہم ، وَکَسَانِی ، فَقَالَ : أَرَأَیْتَ إن لَوْ لَمْ تَتَقَبَّلْہُ کَانَ یُعْطِیکَ ؟ قُلْتُ : لاَ قَالَ : لاَ یَصلح لَکَ۔
(٢١٢٦٣) حضرت کلیب بن وائل (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر (رض) سے عرض کیا کہ میرے پاس ایک دیہاتی آدمی آیا جس کا بہت سارا خراج بنتا تھا۔ اس نے مجھ سے درخواست کی کہ آپ عامل سے میری سفارش کردیجیے۔ میں اس کی سفارش اس لیے نہیں کرتا کہ مجھ کو اس سے کچھ ہدیہ وغیرہ مل جائے۔ صرف اس لیے تاکہ عامل کو اس دیہاتی پر اعتماد ہوجائے اور عامل اس کی ضروریات کو پورا کردیا کرے۔ ابھی تھوڑی ہی دیر ہی گذری تھی کہ وہ میرے پاس میرا صحیفہ لے کر آیا اور کہا جزاک اللہ خیراً اور مجھے سواری پر بٹھایا اور مجھے اور درہم دئیے اور کپڑے پہنائے، حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا : آپ کا کیا خیال ہے اگر تو اس کی سفارش نہ کرتا تو وہ تجھے یہ عطاء کرتا ؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں، آپ (رض) نے فرمایا کہ یہ تیرے لیے ٹھیک اور درست نہیں ہے۔