(۲۱۲۶۴) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ، عَنْ ہِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: أَتَی دِہْقَانٌ مِنْ دَہَاقِینِ سَوَادِ الْکُوفَۃِ عَبْدَ اللہِ بْنَ جَعْفَرٍ یَسْتَعِینُ بِہِ فِی شَیْئٍ عَلَی عَلِیٍّ، قَالَ: فَکَلَّمَ لَہُ عَلِیًّا، فَقَضَی لَہُ حَاجَتَہُ، قَالَ: فَبَعَثَ إلَیْہِ الدِّہْقَانُ بِأَرْبَعِینَ أَلْفًا وَبِشَیْئٍ مَعَہَا لاَ أَدْرِی مَا ہُوَ ؟ فَلَمَّا وُضِعَتْ بَیْنَ یَدَیْ عَبْدِ اللہِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ : مَا ہَذَا ؟ قِیلَ لَہُ : بَعَثَ بِہَا الدِّہْقَانُ الَّذِی کَلَّمْتَ لَہُ فِی حَاجَتِہِ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، قَالَ : رُدُّوہَا عَلَیْہِ ، فَإِنَّا أَہْلَ بَیْتٍ لاَ نَبِیعُ الْمَعْرُوفَ۔
(٢١٢٦٤) حضرت حسن (رض) سے مروی ہے کہ کوفہ کے گاؤں کے چودھریوں میں سے ایک چودھری حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا ، وہ حضرت عبداللہ بن جعفر سے علی (رض) کے خلاف مدد مانگ (کوئی سفارش) مانگ رہا تھا، آپ (رض) نے حضرت علی (رض) سے اس کی سفارش کی تو حضرت علی (رض) نے اس کی ضرورت پوری فرما دی، چودھری نے آپ کو چالیس ہزار درہم ہدیہ میں بھیجے اور اس کے ساتھ کچھ اور چیزیں، مجھے نہیں معلوم وہ کیا تھا، جب وہ سب کچھ حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) کے سامنے رکھے گئے تو آپ (رض) نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ آپ (رض) نے جس چودھری کی حضرت علی (رض) سے سفارش فرمائی تھی اس نے آپ (رض) کے لیے بھیجا ہے، آپ (رض) نے فرمایا : واپس اس کو بھیج دو ، ہم اہل بیت نیکی فروخت نہیں کیا کرتے۔