(۲۱۵۵۱) حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ مُرَّۃَ یُحَدِّثُ سَعِید بْن الْمُسَیَّبِ ، قَالَ : رَأَیْتُ عَلِیًّا بَنَی لِلضَّوَالِّ مِرْبَدًا ، فَکَانَ یَعْلِفُہَا عَلَفًا لاَ یُسَمِّنُہَا ، وَلاَ یُہْزِلُہَا ، مِنْ بَیْتِ الْمَالِ ، فَکَانَتْ تُشْرِفُ بِأَعْنَاقِہَا ، فَمَنْ أَقَامَ بَیِّنَۃً عَلَی شَیْئٍ أَخَذَہُ وَإِلاَّ أَقَرَّہَا عَلَی حَالِہَا لاَ یَبِیعُہَا ، فَقَالَ : سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ : لَوْ وُلِّیت أَمْرَ الْمُسْلِمِینَ صَنَعْت ہَکَذَا۔
(٢١٥٥١) حضرت سعید بن المسیب (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا حضرت علی (رض) نے گمشدہ اونٹوں کے لیے باڑہ بنایا ہوا تھا، اس میں ان کو چارہ ڈالا جاتا، نہ ان کو بہت فربہ کیا جاتا نہ بہت لاغر، سارا خرچ بیت المال کے ذمہ ہوتا، وہ اونٹ گردنوں کو بلند کرکے جھانکا کرتے تھے، اگر کوئی شخص کسی اونٹ پر گواہ پیش کردیتا تو وہ لے لیتا وگرنہ وہ باڑہ میں اسی حال میں رہتے، اس کو فروخت نہ کیا جاتا۔ حضرت سعید بن مسیب فرمایا کرتے تھے کہ اگر مجھے مسلمانوں کا امیر بنایا جاتا تو میں یہی کرتا۔