(۲۱۵۵۰) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : أَضَلَّ رَجُلٌ بَعِیرًا فَوَجَدَہُ عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ أَنْفَقَ عَلَیْہِ ، أَعْلَفَہُ وَأَسْمَنَہُ ، فَاخْتَصَمَا إلَی عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ وَہُوَ یَوْمَئِذٍ أَمِیرٌ عَلَی الْمَدِینَۃِ ، فَقَضَی لِصَاحِبِ الْبَعِیرِ بِبَعِیرِہِ ، وَقَضَی عَلَیْہِ بِالنَّفَقَۃِ۔ قَالَ الشَّعْبِیُّ : فَلَمْ یُعْجِبْنِی ذَلِکَ ، فَقَالَ : یَأْخُذُ الرَّجُلُ بَعِیرَہُ ، وَلاَ نَفَقَۃَ عَلَیْہِ۔
(٢١٥٥٠) حضرت شعبی (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی کا اونٹ گم ہوگیا، اس نے اپنا اونٹ دوسرے شخص کے پاس پایا جو اس کو کھلا پلا رہا ہے، اس کو چارہ دے کر فربہ کردیا ہے، وہ دونوں اپنا جھگڑا حضرت عمر بن عبد العزیز (رض) کے پاس لے کر گئے، آپ ان دنوں مدینہ منورہ کے گورنر تھے، آپ نے اونٹ کے مالک کے لیے اونٹ کا فیصلہ فرمایا اور اس پر اس کے خرچہ کی ادائیگی کو لازم فرمایا، حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں مجھے اس فیصلہ نے تعجب میں نہیں ڈالا، پھر آپ نے فرمایا کہ آدمی اپنا اونٹ پکڑ لے اس پر کوئی نفقہ وغیرہ بھی نہیں ہے۔