(۲۱۹۵۳) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَسَنٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عُبَیْدَ اللہِ بْنَ عُمَرَ عَمَّنْ أَسْلَمَ مِنْ أَہْلِ السَّوَادِ فَقَالَ : مَنْ أَسْلَمَ مِنْ أَہْلِ السَّوَادِ مِمَّنْ لَہُ ذِمَّۃٌ ، فَلَہُ أَرْضُہُ وَمَالُہُ ، وَمَنْ أَسْلَمَ مِمَّنْ لاَ ذِمَّۃَ لَہُ ، وَإِنَّمَا أَخَذَہُ عَنْوَۃً فَأَرْضُہُ لِلْمُسْلِمِینَ
قَالَ عُبَیْدُ اللہِ : قَرَأْت ہَذَا فِی کِتَابِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ۔
(٢١٩٥٣) حضرت حسن (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عبید اللہ بن عمر (رض) سے دریافت کیا گیا کہ اہل عراق میں سے اگر کوئی مسلمان ہوجائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا اہل عراق میں سے اگر وہ مسلمان ہو جو ہمارے ذمہ میں ہیں ، تو اس کی زمین اور اس کا مال اسی کا ہوگا، اور وہ مسلمان ہو پر جو ہمارے ذمہ میں نہیں ہے جو زمین ہم نے جبراً ( جہاد کر کے ) فتح کی تھی تو تو وہ زمین مسلمانوں کے لیے ہوگی۔ حضرت عبیداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے یہ مسئلہ حضرت عمر بن عبد العزیز (رض) کے مکتوب میں پڑھا تھا۔