(۲۲۰۵۱) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَدِّہِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلاً مِنْ مُزَیْنَۃَ یَسْأَلُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : مَا نَجِدُ فِی السَّبِیلِ الْعَامِرَۃِ مِنَ اللُّقَطَۃِ ؟ فَقَالَ : عَرِّفْہَا حَوْلاً ، فَإِنْ جَائَ صَاحِبُہَا وَإِلاَّ فَہِیَ لَک۔ (ابوداؤد ۱۷۰۷۔ احمد ۱۸۰)
(٢٢٠٥١) حضرت عمرو بن شعیب (رض) سے مروی ہے کہ میں نے مزینہ کے ایک شخص کو حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کرتے سنا کہ : جو پڑی ہوئی چیز ہمیں آباد (جہاں لوگوں کی آمد و رفت کثرت سے ہو) راستے میں ملے اس کا کیا کریں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ایک سال تک اس کی تشہیر کرو، اگر اس کا مالک مل جائے تو اچھا ہے اگر نہ ملے تو پھر وہ تیرے لیے ہے۔