(۲۲۰۵۲) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شُرَیْحٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی أَبُو قَبِیلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَجُلاً ، قَالَ : الْتَقَطْت دِینَارًا فَقَالَ : لاَ یُؤوِی الضَّالَّۃَ إلاَّ ضَالٌّ ، قَالَ : فَأَہْوَی بِہِ الرَّجُلُ لِیَرْمِیَ بِہِ فَقَالَ : لاَ تَفْعَلْ ، قَالَ : فَمَا أَصْنَعُ بِہِ ؟ قَالَ : تُعَرِّفُہُ فَإِنْ جَائَ صَاحِبُہُ فَرُدَّہُ إلَیْہِ وَإِلاَّ فَتَصَدَّقْ بِہِ۔
(٢٢٠٥٢) حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ ایک شخص کہنے لگا کہ مجھے ایک دینار ملا ہے۔ دوسرے شخص نے کہا کہ گم شدہ چیز کو گمراہ آدمی ہی ٹھکانا دیتا ہے۔ وہ شخص اس کو مارنے کے لیے آگے بڑھا تو حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) نے اس سے فرمایا ایسا مت کرو، اس نے دریافت کیا کہ پھر اس دینار کا کیا کروں ؟ آپ نے فرمایا اس کی تشہیر کرو، اگر مالک مل جائے تو اس کو لٹا دو ، وگرنہ اس کی طرف سے صدقہ کردو۔