(۲۲۰۷۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سَلَمَۃُ بْنُ وَرْدَانَ ، قَالَ : سَأَلْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللہِ عَنْ ضَالَّۃِ الإِبِلِ ؟ فَقَالَ : مَعَہَا سِقَاؤُہَا وَحِذَاؤُہَا ، دَعْہَا ، إلاَّ أَنْ تَعْرِفَ صَاحِبَہَا فَتَدْفَعُہَا إلَیْہِ ، قَالَ : وَسَأَلْتُہُ عَنْ ضَالَّۃِ الْغَنَمِ ؟ فَقَالَ : عَرِّفْہَا ، فَإِنْ جَائَ صَاحِبُہَا ، وَإِلاَّ فَہِیَ لَکَ ، أَوْ لأَِخِیک ، أَوْ لِلذِّئْبِ۔
(٢٢٠٧٧) حضرت سالم بن عبداللہ سے گم شدہ اونٹ کے متعلق دریافت کیا گیا، آپ نے فرمایا کہ اس کے ساتھ سم اور مشک موجود ہیں (یعنی پانی کی بھی احتیاجی نہیں اور اپنے سموں سے وہ دور تک کا سفر بھی کرسکتی ہے) ۔ لہٰذا تو اس کو چھوڑ دے۔ ہاں اگر اس کے مالک کا علم ہو تو اس کو دے دے۔ پھر راوی کہتے ہیں کہ میں نے گم شدہ بکری کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ (رض) نے فرمایا : اس کی تشہیر کرو ۔ اگر مالک آجائے تو بہتر ہے وگرنہ یا تو وہ تیرے لیے ہے یا تیرے کسی بھائی کے لیے یا پھر بھیڑیے کے لیے ہے۔