(۲۲۰۷۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَدِّہِ : أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ ضَالَّۃِ الْغَنَمِ فَقَالَ : لَکَ ، أَوْ لأَِخِیک ، أَوْ لِلذِّئْبِ ، وَسَأَلَہُ عَنْ ضَالَّۃِ الإِبِلِ فَقَالَ : مَا تُرِیدُ إلَیْہَا ؟ مَعَہَا سِقَاؤُہَا وَحِذَاؤُہَا ، تَأْکُلُ الْمَرْعَی وَتَرِدُ الْمَائَ۔
(٢٢٠٧٨) حضرت عمرو بن شعیب (رض) سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گم شدہ بکری کے متعلق سوال کیا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یا وہ تیرے لیے ہے یا تیرے بھائی کے لیے یا پھر بھیڑیے کے لیے ہے۔ اُس نے گم شدہ اونٹ کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تو اس سے کیا چاہتا ہے۔ اس کے ساتھ پانی کا مشکیزہ اور نعل موجود ہے۔ چراگاہ سے کھائے گا اور پانی پر جائے گا۔