(۲۲۰۷۹) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَص ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْعَالِیَۃِ قَالَتْ : کُنْت جَالِسَۃً عِنْدَ عَائِشَۃَ فَأَتَتْہَا امْرَأَۃٌ ، فَقَالَتْ: یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ، إنِّی وَجَدْت شَاۃً ضَالَّۃً، فَکَیْفَ تَأْمُرِینِی أَنْ أَصْنَعَ؟ فَقَالَتْ: عَرِّفِی وَاحْلِبِی وَاعْلِفِی، ثُمَّ عَادَتْ فَسَأَلَتْہَا ، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ : تَسأْلِینِی أَنْ آمُرَک أَنْ تَذْبَحِیہَا ، أَوْ تَبِیعِیہَا ، فَلَیْسَ لَکِ ذَلِکِ۔
(٢٢٠٧٩) حضرت العالیہ فرماتی ہیں کہ میں حضرت عائشہ (رض) کی خدمت میں حاضر تھی کہ ایک خاتون آئی اور عرض کی اے ام المؤمنین ! مجھے ایک گم شدہ بکری ملی ہے، آپ (رض) کیا حکم دیتی ہیں میں اس کا کیا کروں ؟ آپ (رض) نے فرمایا اس کی تشہیر کرو، اس کا دودھ نکالو اور اس کو چارہ کھلاؤ، پھر وہ دوبارہ حاضر ہوئی اور سوال کیا ؟ حضرت عائشہ (رض) نے ارشاد فرمایا : تو مجھ سے اس امید پر سوال کر رہی ہے کہ میں تجھے ذبح یا فروخت کرنے کا حکم دوں گی ؟ یہ تیرے لیے جائز نہیں ہے۔