(۲۲۳۹۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عُبَیْدٍ الطَّائِیِّ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ رَبِیعَۃَ : أَنَّ عَلِیًّا اسْتَعْمَلَ رَجُلاً مِنْ بَنِی أَسَدٍ یُقَالُ لَہُ : ضُبَیْعَۃُ بْنُ زُہَیْرٍ ، أَوْ زُہَیْرُ بْنُ ضُبَیْعَۃَ ، فَلَمَّا جَائَ قَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، إنِّی أُہْدِیَ إلَیَّ فِی عَمَلِی أَشْیَائُ وَقَدْ أَتَیْتُک بِہَا ، فَإِنْ کَانَتْ حَلاَلاً أَکَلْتہَا ، وَإِلأَفَقَدْ أَتَیْتُک بِہَا ، فَقَبَضَہَا عَلِیٌّ وَقَالَ : لَوْ حَبَسْتہَا کَانَ غُلُولاً۔
(٢٢٣٩٦) حضرت علی ابن ربیعہ سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) نے بنو اسد میں سے ایک شخص کو عامل بنایا۔ جس کا نام ضبیعہ بن زہیر یا زہیر بن ضبیعہ تھا، جب وہ واپس آیا تو کہا : اے امیر المؤمنین ! مجھے کافی ہدیے دئیے گئے۔ میں وہ سب آپ کے پاس لے کر حاضر ہوا ہوں۔ اگر تو وہ میرے لیے حلال ہیں تو میں اس سے کھا لوں ۔ وگرنہ میں وہ آپ کو دے دیتا ہوں۔ حضرت علی (رض) نے اس سے لے لیے اور فرمایا : اگر تو ان کو اپنے پاس رکھتا تو یہ خیانت ہوتی۔