(۲۲۴۳۵) حَدَّثَنَا وَکِیع ، حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِیرٍ یَخْطُبُ وَأَہْوَی بِإِصْبَعَیْہِ إلَی أُذُنَیْہِ ، یَقُولُ : سَمِعْت النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : الْحَلاَلُ بَیِّنٌ وَالْحَرَامُ بَیِّنٌ ، وَبَیْنَہُمَا أُمُورٌ مُشْتَبِہَاتٌ ، فَمَنِ اتَّقَی الشُّبُہَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِینِہِ وَعِرْضِہِ ، وَمَنْ وَقَعَ فِی الشُّبُہَاتِ وَقَعَ فِی الْحَرَامِ ، کَالرَّاعِی یَرْعَی حَوْلَ الْحِمَی یُوشِکُ أَنْ یَرْتَعَ فِیہِ ، أَلاَ وَإنَّ لِکُلِّ مَلِکٍ حِمًی وَإِنَّ حِمَی اللہِ مَحَارِمُہُ ، أَلاَ وَإِنَّ فِی الْجَسَدِ مُضْغَۃً إذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ کُلُّہُ ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہُ ، أَلاَ وَہِیَ الْقَلْبُ۔
(بخاری ۵۲۔ مسلم ۱۲۲۰)
(٢٢٤٣٥) حضرت عامر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت نعمان بن بشیر (رض) کو خطبہ دیتے ہوئے سنا اس حال میں کہ انھوں نے اپنی انگلیاں کانوں میں داخل کی ہوئیں تھیں، فرمایا میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ( ان کانوں سے خود ) سنا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان کے درمیان کچھ چیزیں مشتبہ ہیں، جو شخص مشتبہات سے بچ گیا اس نے اپنے دین اور عزت کو صاف اور بری کردیا۔ اور جو شخص مشتبہات میں پڑا وہ حرام میں پڑا، جیسے چرواہا اگر چراگاہ کے ارد گرد جانوروں کو چرائے تو وہ کبھی نہ کبھی چراگاہ میں داخل ہوجائیں گے۔ خبردار ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے، اور اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں، خبردار جسم میں ایک ٹکڑا ہے اگر وہ ٹھیک ہوجائے تو سارا جسم ٹھیک ہوجاتا ہے، اور اگر وہ خراب ہوجائے تو سارا جسم خراب ہوجاتا ہے، سنو وہ انسان کا دل ہے۔