(۲۲۴۵۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شَرِیکٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ محمد بْنِ عقیل ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ ، عَنْ أَبِی مَالِکٍ الأَشْعَرِیِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَعْظَمُ الْغُلُولِ عِنْدَ اللہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ذِرَاعُ أَرْضٍ یَسْرِقُہَا الرَّجُلُ مِنَ الرَّجُل ، وَالْجَارَانِ یَکُونُ بَیْنَہُمَا الأَرْضُ فَیَسْرِقُ أَحَدُہُمَا مِنْ صَاحِبِہِ فَیُطَوَّقُہُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِینَ۔ (احمد ۳۴۱۔ طبرانی ۳۴۶۳)
(٢٢٤٥٠) حضرت ابو مالک اشعری (رض) سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا؛ اللہ کے نزدیک قیامت کے دن سب سے بڑا دھوکا یہ ہوگا کہ کسی شخص کی کچھ زمین دوسرا چرا لے، اور دو پڑوسیوں کے درمیان زمین مشترک ہو اور ان میں سے ایک ساتھی کی زمین پر قبضہ کرلے، پس ایسے شخص کے گلے میں سات زمینوں کا طوق ڈالا جائے گا۔