(۲۲۵۰۸) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی وَابْنِ شُبْرُمَۃَ وَرَبِیعَۃَ الرَّأْیِ ، قَالُوا فِی رَجُلَیْنِ یَکُونُ بَیْنَہُمَا الْکِیسُ ، فَیَقُولُ ہَذَا : لِی بَعْضُہ ، وَیَقُولُ ہَذَا : لِی کُلُّہُ۔
قَالَ ابْنُ شُبْرُمَۃُ : لِلَّذِی قَالَ : ہُوَ لِی کُلُّہُ ، نِصْفُہُ خَالِصًا ، وَیَکُونُ مَا بَقِیَ بَیْنَہُمَا۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِی لَیْلَی : الثلث والثلثان۔
وَقَالَ ربیعۃ : ہو بینہما نصفان۔
(٢٢٥٠٨) حضرت ابن ابی لیلی، حضرت ابن شبرمہ اور حضرت ربیعۃ الرائی ایسے دو اشخاص کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جن کے پاس ایک برس ہو ان میں ایک آدھے کا اور ددوسرا تمام بٹوے کا دعویٰ کررہا ہو۔ حضرت ابن شبرمہ نے فرمایا جس نے کل کا دعویٰ کیا ہے آدھا تو خالص اس کا ہے، اور باقی آدھا ان دونوں کے درمیان نصف نصف ہوگا، حضرت ابن ابی لیلی نے فرمایا : ایک کو ایک تہائی اور دوسرے کو دو تہائی ملے گا، اور حضرت ربیعہ نے فرمایا وہ پورا دونوں کے درمیان آدھا آدھا ہوگا۔