(۲۲۵۱۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، قَالَ: حدَّثَنَا إیَاسُ بْنُ دَغْفَلٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، مَا أَمْرِی وَأَمْرُ صَاحِبَتِی ؟ قَالَ : وأَیُّ أَمْرِکُمَا ؟ قَالَ : تَصَّدَّقُ مِنْ بَیْتِی بِغَیْرِ إذْنِی ، قَالَ : الأَجْرُ بَیْنَکُمَا ، قَالَ : أَرَأَیْت إِنْ مَنَعْتہَا ؟ قَالَ لَہَا مَا اَحْتَسَبَتْ ، وَلَک مَا بَخِلْتَ بِہِ۔(عبدالرزاق ۱۶۶۱۶)
(٢٢٥١٩) حضرت حسن سے مروی ہے کہ ایک شخص حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول 5! میرا اور میری خاتون کا حکم ( معاملہ ) کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا تم دونوں کا کون سا معاملہ ؟ اس نے عرض کیا کہ وہ میرے گھر سے میری اجازت کے بغیر صدقہ کرتی ہے، آپ نے فرمایا ثواب دونوں کو ملے گا، اس نے عرض کیا کہ اگر میں اس کو اس سے روک لوں ؟ آپ نے فرمایا اس کو اس کا ثواب ملے گا جو اس نے ارادہ کیا اور تیرے لیے ( وبال ہے ) جو تو نے بخل سے کام لیا۔