(۲۲۵۲۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنْ زِیَادِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ : لَمَّا بَایَعَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ النِّسَائَ قَامَتْ إلَیْہِ امْرَأَۃٌ جَلِیلَۃٌ کَأَنَّہَا مِنْ نِسَائِ مُضَرَ ، فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إنَّا کَلٌّ عَلَی آبَائِنَا وَأَزْوَاجِنَا وَأَبْنَائِنَا ، فَمَا یَحِلُّ لَنَا مِنْ أَمْوَالِہِمْ ؟ قَالَ : الرَّطْبُ تَأْکُلِینَہُ وَتُہْدِینَہُ۔ (ابوداؤد ۱۶۸۳۔ حاکم ۱۳۴)
(٢٢٥٢٠) حضرت سعد سے مروی ہے کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خواتین سے بیعت لی تو ایک خاتون کھڑی ہوئی گویا کہ وہ مضر میں سے تھی، عرض کی اے اللہ کے رسول 5! سب کچھ ہمارے والدین، شوہروں اور بیٹوں کے لیے ہے، ان اموال میں سے ہمارے لیے کیا حلال ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہر وہ تر چیز ( جس کو ذخیرہ نہیں کرسکتے ) اس کو کھاؤ بھی اور ہدیہ بھی کرو۔