(۲۲۵۳۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ سَمِعْت سُفْیَانَ یَقُولُ : إذَا أَعْتَقَ الرَّجُلُ عَبْدَہُ خَرَجَ مِنَ الرَّہْنِ ، وَإِذَا دَبَّرَہُ خَرَجَ مِنَ الرَّہْنِ ، وَإِذَا کَانَتْ أَمَۃً فَوَطِئَہَا فَجَائَتْ بِوَلَدٍ خَرَجَتْ مِنَ الرَّہْنِ ، وَإِنْ کَانَ السَّیِّدُ مُوسِرًا أَتْبَعَ الْمُرْتَہِنُ السَّیِّدَ بِالرَّہْنِ ، وَإِنْ کَانَ مُعْسِرًا سَعَی ہَؤُلاَئِ فِی الأَقَلِّ مِنْ قِیمَتِہِمْ وَالرَّہْنِ۔
وَقَالَ سُفْیَانُ : یَرْجِعُ بِمَا سَعَی فِیہِ عَلَی الْمَوْلَی إذَا أَیْسَرَ ، وَأُمُّ الْوَلَدِ وَالْمُدَبَّرُ لاَ یَرْجِعَانِ عَلَی مَوْلاَہُمَا بِشَیْئٍ لأَنَّ خِدْمَتَہُمَا لِلْمَوْلَی۔
(٢٢٥٣٦) حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص غلام کو آزاد کر دے تو وہ رہن سے نکل جائے گا، اور اگر مدبر بنا دے تو بھی رہن سے نکل جائے گا ، اور اگر باندی ہو اور اس سے ہمبستری کرلے اور اس کا بچہ ہوجائے تو وہ بھی رہن سے نکل جائے گی، اور پھر اگر آقا مال دار ہو تو مرتہن آقا کو پکڑے گا اور اگر آقا غریب ہو تو یہ لوگ ( غلام اور باندی) قیمت اور رہن میں جس کی قیمت کم ہے اس کے لیے کوشش کریں گے، حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ پھر اس غلام سے جتنی سعی کی ہے اس کا اپنے آقا سے رجوع کرے گا (یعنی اس سے اتنے پیسے یا قیمت وصول کرے گا) لیکن ام ولد اور مدبر آقا سے رجوع نہیں کریں گے کیونکہ ان کی خدمت آقا کے لیے ہوتی ہے۔