(۲۲۵۳۷) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہشام ، عَنِ الْحَسَنِ : أَنَّہُ لَمْ یَکُنْ یَرَی بَأْسًا بِالرَّجُلَیْنِ یَشْتَرِکَانِ فَیَجِیئُ ہَذَا بِدَنَانِیرَ وَالآخَرُ بِدَرَاہِمَ ، وَقَالَ : الدَّنَانِیرُ عَیْنٌ کُلُّہُ ، فَإِذَا أَرَادَا أَنْ یَفْتَرِقَا أَخَذَ صَاحِبُ الدَّنَانِیرِ دَنَانِیرَ ، وَأَخَذَ صَاحِبُ الدَّرَاہِمِ دَرَاہِمَ ، ثُمَّ اقْتَسَمَا الرِّبْحَ۔
قَالَ ہِشَامٌ : وَکَانَ مُحَمَّدٌ یُحِبُّ أَنْ یَکُونَ دَرَاہِمَ وَدَرَاہِمَ ، وَدَنَانِیرَ وَدَنَانِیرَ۔
(٢٢٥٣٧) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ اگر دو آدمی شرکت کرنا چاہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ ایک دینار اور دوسرا دراہم لے آئے، فرمایا : دینار سارے کا سارا عین ہے پھر جب الگ ہونے کا ارادہ کریں تو دینار والا دینار لے لے اور دراہم والا دراہم لے لے اور پھر جو نفع ہے اس کو تقسیم کرلیں۔
حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پسند فرماتے تھے کہ دراہم دراہم کے ساتھ ہوں اور دینار دینار کے ساتھ۔