(۲۲۶۱۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَش ، عَنْ شَقِیقٍ ، عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: حُوسِبَ رَجُلٌ مِمَّنْ کَانَ قَبْلَکُمْ فَلَمْ یُوجَدْ لَہُ مِنَ الْخَیْرِ شَیْئٌ إلأَأَنَّہُ کَانَ رَجُلاً مُوسِرًا یُخَالِطُ النَّاسَ فَیَقُولُ لِغِلْمَانِہِ : تَجَاوَزُوا عَنِ الْمُعْسِرِ ، فَقَالَ : اللَّہُ لِمَلاَئِکَتِہِ : فَنَحْنُ أَحَقُّ بِذَلِکَ مِنْہُ ، فَتَجَاوَزُوا عَنْہُ۔
(مسلم ۳۰۔ ترمذی ۱۳۰۷)
(٢٢٦١١) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ تم سے پہلے ایک شخص کا حساب لیا گیا اس کے نامہ اعمال میں کوئی نیکی نہ تھی سوائے اس کے کہ وہ مال دار شخص تھا اور لوگوں سے معاملات کرتا تھا، اس نے اپنے نوکروں سے کہا ہوا تھا تنگ دست کو مہلت دے دیا کرو، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا، میں اس سے زیادہ اس بات کا مستحق ہوں، تم اس سے تجاوز کرو ( معاف کرو ، مہلت دو ) ۔