(۲۲۷۴۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا إسْرَائِیلُ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عِصْمَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ یَقُولُ: لاَ یَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ یَحْلُبَ نَاقَۃَ رَجُلٍ مَصْرُورَۃً إلاَّ بِإِذْنِ صَاحِبِہَا ، أَلاَ إنَّ خَاتَمَہَا صِرَارُہَا ، فَإِنْ أَرْمَلَ الْقَوْمُ فَلیُنَادی الرَّاعِی ثَلاَثًا ، فَإِنْ أَجَابَ شَرِبُوا ، وَإِلاَّ فَلْیُمْسِکْہُ رَجُلاَنِ وَلْیَشْرَبُوا۔ (احمد ۳/۴۶۔ بیہقی ۳۶۰)
(٢٢٧٤٢) حضرت ابو سعید خدری (رض) ارشاد فرماتے ہیں کہ کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی کی اونٹنی کا دودھ بغیر اجازت استعمال کرے جس اونٹنی کے تھنوں کو باندھا گیا ہو، بیشک اس کے تھنوں کو باندھنا اس کی مہر ہے (یعنی اب اس میں سے استعمال نہیں کرسکتے) اور اگر لوگ (قوم) زاد راہ ختم کر کے مفلس ہوجائیں تو پھر چرواہے کو تین بار پکارو، اگر وہ تمہاری پکار کا جواب دے تو اس سے لے کر پی لو، وگرنہ دو شخص اس کو پکڑیں اور دودھ نکال کر پی لیں۔