(۲۲۹۳۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ حَکِیمِ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : الذَّہَبُ بِالذَّہَبِ الْکِفَّۃُ بِالْکِفَّۃِ ، وَالْفِضَّۃُ بِالْفِضَّۃِ الْکِفَّۃُ بِالْکِفَّۃِ ، حَتَّی خَصَّ الْمِلْحَ ، فَقَالَ عُبَادَۃُ : إنِّی وَاللَّہِ مَا أُبَالِی أَنْ لاَ أَکُونَ بِأَرْضٍ بِہَا مُعَاوِیَۃُ۔
(نسائی ۶۱۵۹۔ احمد ۵/۳۱۹)
(٢٢٩٣٨) حضرت عبادہ بن صامت (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا : سونے کو سونے کے عوض اور چاندی کو چاندی کے عوض دیتے وقت پلڑے کو پلڑے سے برابر کر کے دو (یعنی ہم وزن ہونے چاہئیں) حضرت عبادہ فرماتے ہیں کہ مجھے اس کی کوئی پروا نہیں کہ میں اس سر زمین میں نہیں ہوں کہ جس میں معاویہ ہیں۔