(۲۲۹۳۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْعَبْدِیُّ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَکِّلِ النَّاجِی ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الذَّہَبُ بِالذَّہَبِ ، وَالْفِضَّۃُ بِالْفِضَّۃِ ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ ، وَالشَّعِیرُ بِالشَّعِیرِ ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ ، یَدًا بِیَدٍ ، مِثْلاً بِمِثْلٍ ، فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَی ، الآخِذُ وَالْمُعْطِی فِیہِ سَوَائٌ۔ (مسلم ۱۲۱۱۔ احمد ۳/۴۹)
(٢٢٩٣٩) حضرت ابو سعید خدری (رض) سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : سونے کو سونے کے بدلے، چاندی کو چاندی کے بدلے، گندم کو گندم کے بدے، جو کو جو کے بدلے، کھجور کو کھجور کے بدلے اور نمک کو نمک کے بدلے نقد اور برابر سرابر فروخت کرو، پس جو زیادہ دے یا زیادہ طلب کرے اس نے سودی معاملہ کیا، اور اس میں دینے اور لینے والا دونوں برابر ہیں۔