(۲۲۹۹۴) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ ہَاشِمٍ ، عَنْ أَبِی لَیْلَی ، عَنْ أَبِی ضَبَّۃَ ، قَالَ : رُفِعَ إلَی عُمَرَ مُکَاتَبٌ جَائَ بِالْمَالِ یَحْمِلہ ، فَقَالَ مَوْلاَہُ : لاَ أَقْبَلُہُ مِنْک ، إنَّمَا کَاتَبْتُک لاَخُذَہُ مِنْک نُجُومًا فِی السِّنِینَ لِنَفَقَتی ، وَلَعَلَّک مَعَ ذَلِکَ تَمُوتُ فَأَرِثُک ، فَأَمَرَ عُمَرُ بِالْمَالِ فَوَضَعَہُ فِی بَیْتِ الْمَالِ ، ثُمَّ أَجْرَاہُ عَلَیْہِ نُجُومًا وَأَمْضَی عِتْقَہُ۔
(٢٢٩٩٤) حضرت عمر (رض) کے پاس مسئلہ گیا کہ مکاتب اپنا سارا بدل کتابت ایک ساتھ لے آیا ہے لیکن آقا نے کہا میں اس کو ایک ساتھ وصول نہیں کروں گا، میں نے اس کو مکاتب اس لیے بنایا تھا کہ میں اپنے نفقہ کے طور پر اس سے دو سال تک تھوڑا تھوڑا کر کے وصول کرتا رہوں گا اور اس دوران شاید یہ فوت ہوجائے تو اس کا وارث بنوں، حضرت نے حکم دیا کہ مال اس سے لے کر بیت المال میں رکھ دو ، پھر اس کے آقا کو قسط وار دیتے رہو، اور اس کے غلام کے لیے آزادی کا فیصلہ فرما دیا۔