(۲۲۹۹۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ ، عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ : أَنَّ رَجُلاً کَاتَبَ غُلاَمًا لَہُ ، فَنَجَّمَہَا عَلَیْہِ نُجُومًا ، فَأَتَاہُ بِمُکَاتَبَتِہِ کُلِّہَا ، فَأَبَی أَنْ یَقْبَلَہَا الْمَوْلَی إلاَّ نُجُومًا ، فَأَتَی الْمُکَاتَبُ عُمَرَ فَأَرْسَلَ إلَی مَوْلاَہُ ، فَجَائَ فَعَرَضَ عَلَیْہِ الْمَالَ فَأَبَی أَنْ یَأْخُذَہُ فَقَالَ عُمَرُ : یَا یَرْفَأُ ادْفَعْہُ فِی بَیْتِ الْمَالِ ، وَقَالَ لِلْمَوْلَی : خُذْہَا نُجُومًا ، وَقَالَ لِلْمُکَاتَبِ : اذْہَبْ حَیْثُ شِئْت۔
(٢٢٩٩٥) حضرت ابوبکر بن عمرو بن حزم سے مروی ہے کہ ایک شخص نے اپنے غلام کو مکاتب بنایا، اور اس پر قسط وار بدل کتابت ادا کرنے کی شرط لگائی، مکاتب اپنا سارا بدل کتابت لے کر آیا، تو اس کے آقا نے سارا ایک ساتھ وصول کرنے سے انکار کردیا، وہ مکاتب حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے اس کے آقا کی طرف بلاوا بھیجا، وہ آیا تو آپ نے اس پر وہ سارا مال پیش کیا، لیکن اس نے وصول کرنے سے انکار کردیا، حضرت عمر نے فرمایا اے یرفأ! اِ س مال کو بیت المال میں رکھ دے، اور آقا سے فرمایا بیت المال سے قسط وار وصول کرتا رہے۔ اور غلام سے فرمایا تو جا تو آزاد ہے۔