(۲۳۴۱۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرحیم بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ الْمُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : مَا مِنْ حَکَمٍ یَحْکُمُ بَیْنَ النَّاسِ إلاَّ حُشِرَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ، وَمَلَکٌ آخِذٌ بِقَفَاہُ حَتَّی یَقِفَ بِہِ عَلَی جَہَنَّمَ ، ثُمَّ یَرْفَعُ رَأْسَہُ إلَی الرَّحْمَان ، فَإِنْ قَالَ لَہُ : اطْرَحْہُ ، طَرَحَہُ فِی مَہْوَی أَرْبَعِینَ خَرِیفًا۔
قَالَ : وَقَالَ مَسْرُوقٌ : لأَنْ أَقْضِیَ یَوْمًا آخُذُ بِحَقٍّ وَعَدْلٍ أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ سَنَۃٍ أَغْزُوہَا فِی سَبِیلِ اللہِ۔
(ابن ماجہ ۲۳۱۱۔ احمد ۱/۴۳۰)
(٢٣٤١٤) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ جو حاکم بھی لوگوں کے درمیان (غلط) فیصلہ کرتا ہے، قیامت کے دن اس کا حشر اس طرح ہوگا کہ فرشتہ نے اس کو پکڑ کر جہنم پر کھڑا کرے گا، پھر وہ اپنا سر رحمان کی طرف اٹھائے گا، اس کو کہا جائے گا، اس کو جہنم میں ڈال دو ، اس کو چالیس خریف کے فاصلہ پر ڈال دیا جائے گا ۔ حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ میں ایک دن حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ کروں یہ مجھے ایک سال اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ پسند ہے۔