(۲۳۹۸۴) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ حَیَّانَ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ : سَحَرَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْیَہُودِ ، فَاشْتَکَی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِذَلِکَ أَیَّامًا ، فَأَتَاہُ جِبْرِیلُ فَقَالَ : إِنَّ رَجُلاً کَذَا مِنَ الْیَہُودِ سَحَرَکَ ، عَقَدَ لَکَ عُقَدًا ، فَأَرْسَلَ إِلَیْہَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلِیًّا ، فَاسْتَخْرَجَہَا ، فَجَائَ بِہِ ، فَجَعَلَ کُلَّمَا حَلَّ عُقْدَۃً وَجَدَ لِذَلِکَ خِفَّۃً ، قَالَ : فَقَامَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَأَنَّمَا نُشِطَ مِنْ عِقَالٍ ، فَمَا ذُکِرَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَلِکَ الْیَہُودِیَّ ، وَلاَ رَآہُ فِی وَجْہِہِ قَطُّ۔ (احمد ۴/۳۶۷۔ حاکم ۳۶۰)
(٢٣٩٨٤) حضرت زید بن ارقم سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایک یہودی آدمی نے جادو کیا۔ جس کی جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چند دن تک شکایت رہی لیکن پھر حضرت جبرائیل آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ ” یہود کے فلاں شخص نے آپ پر جادو کیا ہے اور اس نے آپ کے لیے چند گرہیں لگائی ہیں “ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان گرہوں (والے دھاگہ) کی طرف حضرت علی کو بھیجا اور حضرت علی ، اس کو نکال کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ پس نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب ان گرہوں میں سے کوئی گرہ کھولتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے ہلکا پن محسوس کرتے۔ راوی کہتے ہیں۔ پس نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یوں کھڑے ہوئے جیسا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کسی بندش سے کھول دیا گیا ہے۔ لیکن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس یہودی آدمی سے اس بات کا کبھی ذکر نہیں فرمایا اور نہ ہی اس یہودی نے کبھی اس بات کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ سے پہچانا۔