(۲۳۹۸۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : سَحَرَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَہُودِیٌّ مِنْ یَہُودِ بَنِی زُرَیْقٍ ، یُقَالَ لَہُ : لَبِیدُ بْنُ الأَعْصَمِ ، حَتَّی کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُخَیَّلُ إِلَیْہِ أَنَّہُ یَفْعَلُ الشَّیْئَ وَلاَ یَفْعَلُہُ ، حَتَّی إِذَا کَانَ ذَاتَ یَوْمٍ ، أَوْ ذَاتَ لَیْلَۃٍ ، دَعَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ دَعَا ، ثُمَّ قَالَ : یَا عَائِشَۃُ ، أَشَعَرْتِ أَنَّ اللَّہَ قَدْ أَفْتَانِی فِیمَا اسْتَفْتیہ فِیہِ ؟ جَائَنِی رَجُلاَنِ ، فَجَلَسَ أَحَدُہُمَا عِنْدَ رَأْسِی ، وَالآخَرُ عِنْدَ رِجْلِی ، فَقَالَ الَّذِی عِنْدَ رَأْسِی لِلَّذِی عِنْدَ رِجْلِی ، أَوِ الَّذِی عِنْدَ رِجْلِی لِلَّذِی عِنْدَ رَأْسِی : مَا وَجَعُ الرَّجُلِ ؟ قَالُوا : مَطْبُوبٌ ، قَالَ : مَنْ طَبَّہُ ؟ قَالَ : لَبِیدُ بْنُ الأَعْصَمِ ، قَالَ : فِی أَیِّ شَیْئٍ ؟ قَالَ : فِی مُشْطٍ وَمُشَاطَۃٍ ، وَجُفِّ طَلْعَۃِ ذَکَرٍ ، قَالَ : وَأَیْنَ ہُوَ ؟ قَالَ : فِی بِئْرِ ذِی أَرْوَانَ ، فَأَتَاہَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِہِ ، ثُمَّ جَائَ فَقَالَ : یَا عَائِشَۃُ ، کَأَنَّمَا مَاؤُہَا نُقَاعَۃُ الْحِنَّائِ ، وَلَکَأَنَّ نَخْلَہَا رُؤُوسُ الشَّیَاطِینِ ، قَالَ : فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَفَلاَ أَخْرَجْتَہُ ؟ فَقَالَ : لاَ ، أَمَّا أَنَا فَقَدْ عَافَانِی اللَّہُ ، وَکَرِہْتُ أَنْ أُثِیرَ عَلَی النَّاسِ مِنْہُ شَرًّا ، فَأَمَرَ بِہَا فَدُفِنَتْ۔ (بخاری ۳۱۷۵۔ مسلم ۱۷۱۹)
(٢٣٩٨٥) حضرت عائشہ سے روایت ہے۔ کہتی ہیں کہ بنو زریق کے یہودیوں میں سے ایک یہودی نے جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو کیا۔ جس کا نام لبید بن اعصم تھا۔ (اس کا اثر) یہاں تک (تھا) کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خیال ہوتا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک کام کرلیا ہے۔ حالانکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ کام نہیں کیا ہوتا تھا۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ دن کا وقت تھا یا رات کا وقت تھا۔ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آواز دی۔ پھر دوبارہ آواز دی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اے عائشہ ! تجھے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ بات بتادی ہے جو میں نے اللہ تعالیٰ سے معلوم کی تھی ؟ میرے پاس دو آدمی آئے اور ان میں سے ایک میرے سر کے پاس اور دوسرا میرے قدموں کے پاس بیٹھ گیا۔ پھر اس آدمی نے جو میرے سر کے پاس بیٹھا تھا اس آدمی سے جو میرے قدموں کے پاس بیٹھا تھا۔ کہا : یا جو آدمی میرے قدموں کے پاس تھا اس نے میرے سر کے پاس بیٹھے ہوئے سے کہا۔ اس آدمی کی تکلیف کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا : اس پر جادو ہوا ہے۔ اس نے پھر پوچھا۔ اس پر کس نے جادو کیا ہے ؟ دوسرے نے کہا لبید بن اعصم نے۔ پہلے نے پھر پوچھا۔ کس چیز میں جادو کیا ہے ؟ دوسرے نے جواب دیا۔ کنگھی میں اور اس میں آنے والے بالوں میں اور نر کھجور کی جڑ سے بنے ہوئے برتن میں۔ پہلے نے پھر پوچھا۔ یہ چیزیں کہاں ہیں ؟ دوسرے نے کہا۔ بیئر ذی اروان میں “ چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کنویں کے پاس اپنے صحابہ کی ایک جماعت کے ہمراہ تشریف لے گئے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس آئے اور فرمایا : ” اے عائشہ ! گویا کہ اس کا پانی مہندی بھگویا ہوا پانی ہے اور اس کے کھجور تو گویا شیطانوں کے سر ہیں۔ “ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے ان چیزوں کو باہر کیوں نہ نکلوایا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” نہ “ کیونکہ مجھے تو اللہ تعالیٰ نے صحت بخش دی ہے اور میں نے اس بات کو ناپسند سمجھا کہ میں اس کے ذریعہ سے لوگوں میں کوئی شر بھڑکاؤں۔ “ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے بارے میں حکم دیا اور انھیں دفن کردیا گیا۔