(۲۴۰۳۶) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُعَوِّذُ بِہَذِہِ الْکَلِمَاتِ : أَذْہِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ ، وَاشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِی ، لاَ شِفَائَ إِلاَّ شِفَاؤُکَ ، شِفَائً لاَ یُغَادِرُ سَقَمًا ، قَالَتْ : فَلَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی مَرَضِہِ الَّذِی مَاتَ فِیہِ ، أَخَذْتُ بِیَدِہِ فَجَعَلْتُ أَمْسَحُہَا وَأَقُولُہَا ، قَالَتْ : فَنَزَعَ یَدَہُ مِنْ یَدِی ، وَقَالَ : اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِی ، وَأَلْحِقْنِی بِالرَّفِیقِ الأَعْلَی ، قَالَتْ : فَکَانَ ہَذَا آخَرَ مَا سَمِعْتُ مِنْ کَلاَمِہِ۔ (مسلم ۱۷۲۲۔ ابن ماجہ ۱۶۱۹)
(٢٤٠٣٦) حضرت عائشہ سے روایت ہے، کہتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کلمات کے ساتھ تعویذ (پناہ) دیا کرتے تھے۔ ’ ’ اے لوگو کے پروردگار ! تکلیف دور کر دے، اور شفاء عطا فرما، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری شفاء کے علاوہ کوئی شفا نہیں ہے اور ایسی شفا دے جو کسی بیماری کو نہ چھوڑے ‘ ‘ حضرت عائشہ کہتی ہیں، پس جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اپنے مرض الموت میں حالت زیادہ بوجھل ہوگئی تو میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہاتھ پکڑا اور اس کو مسح کر کے یہ کلمات کہنے لگی، حضرت عائشہ کہتی ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے ہاتھ سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور فرمایا : ” اے اللہ ! تو میری مغفرت فرما اور مجھے توُ رفیق اعلیٰ کے ساتھ ملا دے “ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ پس یہ آخری بات تھی جو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سُنی تھی۔