(۲۴۰۵۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِیَاسٍ ، عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ، قَالَ : بَعَثَنَا النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثَلاَثِینَ رَاکِبًا فِی سَرِیَّۃٍ ، قَالَ : فَنَزَلْنَا بِقَوْمٍ فَسَأَلْنَاہُمَ الْقِرَی ، فَلَمْ یَقْرُونَا ، قَالَ : فَلُدِغَ سَیِّدُہُمْ ، قَالَ : فَأَتَوْنَا فَقَالُوا : أَفِیکُمْ أَحَدٌ یَرْقِی مِنَ الْعَقْرَبِ ؟ قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، لَکِنِی لاَ أَرْقِیہِ حَتَّی تُعْطُونَا غَنَمًا ، قَالَ : فَقَالُوا : فَإِنَّا نُعْطِیکُمْ ثَلاَثِینَ شَاۃً ، قَالَ : فَقَبِلْنَا ، قَالَ : فَقَرَأْتُ فَاتِحَۃَ الکتاب سَبْعَ مَرَّاتٍ ، قَالَ : فَبَرَأَ ، فَقُلْنَا : لاَ تَعْجَلُوا حَتَّی تَأْتُوا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَیْہِ، قَالَ : فَذَکَرْتُ لَہُ الَّذِی صَنَعْتُ ، قَالَ : أَوَ مَا عَلِمْتَ أَنَّہَا رُقْیَۃٌ ؟ اقْسِمُوا الْغَنَمَ ، وَاضْرِبُوا لِی مَعَکُمْ بِسَہْمٍ۔
(ترمذی ۲۰۶۳۔ احمد ۳/۱۰)
(٢٤٠٥٣) حضرت ابوسعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم تیس سواروں کو ایک سریہ میں بھیجا۔ فرماتے ہیں : پس ہم کچھ لوگوں کے پاس اترے اور ہم نے ان سے مہمان نوازی کا کہا تو انھوں نے ہماری مہمان نوازی نہ کی۔ کہتے ہیں (اسی دوران) ن کے سردار کو ڈسا گیا۔ چنانچہ وہ ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے۔ کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جو بچھو کو دم کرسکتا ہو ؟ ابو سعید کہتے ہیں۔ میں نے جواب دیا۔ ہاں۔ لیکن اس کو تب تک دم نہیں کروں گا جب تک تم ہمیں بکریاں نہ دو ۔ حضرت ابوسعید کہتے ہیں۔ انھوں نے کہا۔ ہم آپ لوگوں کو تیس بکریاں دیں گے۔ کہتے ہیں۔ (اس سے) وہ صحت یاب ہوگیا تو ہم نے (آپس میں) کہا۔ جلدی نہ کرو یہاں تک کہ تم جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پہنچ جاؤ۔ راوی کہتے ہیں۔ پس جب ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پہنچے۔ ابو سعید کہتے ہیں کہ میں نے جو کچھ کیا تھا اس کا ذکر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” کیا تو جانتا تھا کہ یہ دم (بھی) ہے ؟ بکریاں تقسیم کرلو اور اپنے ساتھ میرا حصہ بھی نکالو۔ “