(۲۴۰۵۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ ، قَالَ : أَتَی رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ : إِنِّی رَقَیْتُ فُلاَنًا ، وَکَانَ بِہِ جُنُونٌ ، فَأُعْطِیتُ قَطِیعًا مِنْ غَنَمٍ ، وَإِنَّمَا رَقَیْتُہُ بِالْقُرْآنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَخَذَ بِرُقْیَۃِ بَاطِلٍ ، فَقَدْ أَخَذْتَ بِرُقْیَۃِ حَقٍّ۔
(٢٤٠٥٤) حضرت قیس بن ابی حازم سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں ایک آدمی حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا۔ میں نے فلاں شخص کو دم کیا تھا اور اس آدمی کو جنون تھا۔ مجھے (عوض میں) بکریوں کا ایک ریوڑد یا گیا ہے۔ جبکہ میں نے صرف قرآن مجید کے ذریعہ سے دم کیا تھا۔ تو اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” جس کسی نے باطل تعویذ کے ذریعہ لیا (تو وہ جانے) لیکن یقیناً تو نے تو برحق تعویذ دم پر لیا ہے۔ “