(۲۴۰۶۵) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ زَکَرِیَّا ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَیْبَۃَ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ جَعْدَۃَ ، قَالَ : کَانَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ یفْزَعُ مِنَ اللَّیْلِ حَتَّی یَخْرُجَ وَمَعَہُ سَیْفُہُ ، فَخُشِیَ عَلَیْہِ أَنْ یُصِیبَ أَحَدًا ، فَشَکَا ذَلِکَ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : إِنَّ جِبْرِیلَ قَالَ لِی : إِنَّ عِفْرِیتًا مِنَ الْجِنِّ یَکِیدُکَ ، فَقُلْ : أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللہِ التَّامَّۃِ الَّتِی لاَ یُجَاوِزُہنَّ بَرٌّ ، وَلاَ فَاجِرٌ مِنْ شَرِّ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَائِ ، وَمَا یَعْرُجُ فِیہَا ، وَمِنْ شَرِّ مَا ذَرَأَ فِی الأَرْضِ وَمَا یَخْرُجُ مِنْہَا ، وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ ، وَمِنْ شَرِّ کُلِّ طَارِقٍ إِلاَّ طَارِقًا یَطْرُقُ بِخَیْرٍ یَا رَحْمَنُ ، فَقَالَہُنَّ خَالِد ، فَذَہَب ذَلِکَ عَنہُ۔
(٢٤٠٦٥) حضرت یحییٰ بن جعدہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ خالد بن ولید رات کے وقت ڈر جاتے تھے اور ان کے پاس تلوار بھی ہوتی تھی اور وہ اس حال میں باہر نکل جاتے تھے، پھر انھوں نے یہ خوف محسوس کیا کہ یہ کسی کو زخمی نہ کردیں تو انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بات کی شکایت کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :” مجھے جبرائیل نے کہا تھا کہ ایک بڑا جن آپ کے لیئے برائی کا ارادہ رکھتا ہے پس آپ (یہ) پڑھیں :” میں اللہ تعالیٰ کے ان کلمات تامہ کے ذریعے سے پناہ پکڑتا ہوں جن سے کوئی نیک اور بد تجاوز نہیں کرسکتا، ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان سے اترے اور جو آسمان میں چڑھے اور ہر اس چیز سے جو زمین میں داخل ہو اور جو زمین سے خارج ہو اور رات، دن کے فتنوں سے اور ہر رات کو آنے والی ہر چیز کے شر سے مگر وہ رات کو آنے والی چیز جو خیر کے ساتھ آئے، اے رحمن “ چنانچہ حضرت خالد نے یہ جملے کہے تو ان کی یہ حالت ختم ہوگئی۔