(۲۴۰۶۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ ، قَالَ : حدَّثَنَا مَکْحُولٌ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ مَکَّۃَ تَلَقَّتْہُ الْجِنُّ بِالشَّرَرِ یَرْمُونَہُ ، فَقَالَ جِبْرِیل : یَا مُحَمَّدُ ، تَعَوَّذ بِہَؤُلاَئِ الْکَلِمَاتِ : فَزُجِرُوا عَنْہُ ، فَقَالَ : أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللہِ التَّامَّاتِ الَّتِی لاَ یُجَاوِزہُنَّ بَرٌّ ، وَلاَ فَاجِرٌ مِنْ شَرِّ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَائِ ، وَمَا یَعْرُجُ فِیہَا ، وَمِنْ شَرِّ مَا بُثَّ فِی الأَرْضِ وَمَا یَخْرُجُ مِنْہَا ، وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ ، وَمِنْ شَرِّ کُلِّ طَارِقٍ إِلاَّ طَارِقًا یَطْرُقُ بِخَیْرٍ یَا رَحْمَنُ۔
(٢٤٠٦٦) حضرت مکحول روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو جنات آپ کو اس حالت میں ملے کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف شعلہ زنی کر رہے تھے۔ اس پر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے عرض کیا۔ ” اے محمد ! آپ ان کلمات کے ذریعہ پناہ حاصل کرلیں۔ ‘ ‘ چنانچہ جنات کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دور کردیا گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (یہ کلمات) کہے تھے۔” میں اللہ تعالیٰ کے ان کلمات تامہ کے ذریعہ ، جن سے کوئی نیک اور بد تجاوز نہیں کرسکتا، آسمان سے اترنے والی اور آسمان پر چڑھنے والی ہر چیز کے شر سے پناہ پکڑتا ہوں اور ہر اس چیز سے پناہ پکڑتا ہوں جو زمین میں پھیلی ہوئی ہے اور جو زمین سے نکلتی ہے۔ اور رات، دن کے فتنوں کے شر سے اور رات کو آنے والی ہر چیز کے شر سے پناہ پکڑتا ہوں سوائے رات کو آنے والی اس چیز کے جو خیر لے کر آئے۔ اے رحمن۔ “