hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 24191

.

ابن أبي شيبة

24191
Ibn Abi Shaybah
(۲۴۱۹۲) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ النَّہْدِیِّ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ غَزَا بِأَصْحَابِہِ ، فَمَرَّ قَوْمٌ مُسْغِبُونَ ، یَعْنِی جِیَاعًا ، بِشَجَرَۃٍ خَضْرَائَ فَأَکَلُوا مِنْہَا ، فَکَأَنَّمَا مَرَّتْ بِہِمْ رِیحٌ فَأَخْمَدَتْہُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : قرِّسُوا الْمَائَ فِی الشِّنَانِ ، ثُمَّ صُبُّوہُ عَلَیْکُمْ فِیمَا بَیْنَ الأَذَانَیْنِ مِنَ الصُّبْحِ ، وَاحْدُرُوا الْمَائَ حَدْرًا ، وَاذْکُرُوا اسْمَ اللہِ عَلَیْہِ ، فَفَعَلُوا ذَلِکَ ، فَکَأَنَّمَا نَشِطُوا مِنْ عُقْلٍ۔
(٢٤١٩٢) حضرت ابو عثمان نہدی سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ کے ہمراہ ایک غزوہ کا سفر کیا۔ اس دوران کچھ لوگ بھوک کی حالت میں ایک سرسبز درخت کے پاس سے گزرے تو انھوں نے اس درخت کو کھانا شروع کیا۔ پس یوں محسوس ہوا کہ ان پر کوئی ہوا آئی اور انھیں بجھا ہوا کرگئی ہے۔ اس پر جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” چھوٹے مشکیزے میں پانی کو ٹھنڈا کرو اور پھر صبح کی دو اذانوں کے درمیان تم اس پانی کو اپنے اوپر بہا ڈالو اور پانی کو اور اللہ کا نام یاد کرو۔ ‘ ‘ چنانچہ صحابہ کرام (رض) نے یہ عمل کیا تو (اس کا اثر یہ ہوا کہ) گویا وہ لوگ بندھن سے کھول دئیے گئے ہیں۔