(۲۴۱۹۳) حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ ، قَالَ : أَکَلَ ابْنُ سِیرِینَ یَوْمًا ثُمَّ اتَّکَأَ عَلَی یَمِینِہِ ، قَالَ : فَقُلْتُ : إِنَّ الأَطِبَّائَ یَکْرَہُونَ أَنْ یَأْکُلَ الرَّجُلُ وَیَتَّکِئَ عَلَی یَمِینِہِ ، فَقَالَ : إِنَّ کَعْبًا لَمْ یَکُنْ یَکْرَہُ ذَلِکَ ، کَانَ یَقُولُ : تَوَسَّدْ یَمِینَک ، ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَۃَ ، فَإِنَّہَا وَفَاؤُہُ۔
(٢٤١٩٣) حضرت عاصم بن احوص بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن سیرین نے ایک دن کھانا کھایا اور پھر دائیں کروٹ پر تکیہ لگا لیا۔ عاصم کہتے ہیں۔ میں نے ان سے کہا۔ اطباء اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ آدمی کھانا کھائے اور دائیں کروٹ پر تکیہ لگائے۔ تو حضرت ابن سیرین نے فرمایا۔ حضرت کعب اس کو مکروہ نہیں سمجھتے تھے۔ وہ کہا کرتے تھے۔ تم اپنے دائیں پہلو پر تکیہ لگاؤ پھر قبلہ رُخ ہو جاؤ۔