(۲۴۲۱۲) حَدَّثَنَا مُلاَزِمُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ سِرَاجِ بْنِ عُقْبَۃَ ، عَنْ عَمَّتِہِ خَالِدَۃَ بِنْتِ طَلْقٍ ، قَالَتْ : حدَّثَنِی أَبِی ، قَالَ : کُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ نَبِیِّ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَجَائَ صُحَارُ عَبْدِ الْقَیْسِ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، مَا تَرَی فِی شَرَابٍ نَصْنَعُہُ مِنْ ثِمَارِنَا ؟ قَالَ : فَأَعْرَضَ عَنْہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی سَأَلَہُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَامَ بِنَا النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَصَلَّی ، فَلَمَّا قَضَی الصَّلاَۃَ ، قَالَ : مَنِ السَّائِلُ عَنِ الْمُسْکِرِ ؟ یَا سَائِلاً عَنِ الْمُسْکِرِ ، لاَ تَشْرَبْہُ ، وَلاَ تَسْقِہِ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِینَ ، فَوَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ ، مَا شَرِبَہُ قَطُّ رَجُلٌ ابْتِغَائَ لَذَّۃِ سُکْرِہِ ، فَیَسْقِیَہُ اللَّہُ خَمْرًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔ (طبرانی ۸۲۵۹)
(٢٤٢١٢) حضرت خالدہ بنت طلق سے روایت ہے، کہتی ہیں کہ مجھے میرے والد نے بیان کیا کہ ہم لوگ اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ تو صحار عبد القیس آئے اور انھوں نے پوچھا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اس مشروب کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جسے ہم اپنے پھلوں سے تیار کرتے ہیں ؟ راوی کہتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی یہ بات سن کر رُخ مبارک ان سے پھیرلیا۔ یہاں تک کہ اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تین مرتبہ یہی سوال کیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، ہمیں لے کر اٹھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھائی۔ پس جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو ارشاد فرمایا : ” نشہ آور مشروب کے بارے میں پوچھنے والا کون ہے ؟ اے نشہ آور چیز کے بارے میں سوال کرنے والے ! تم اس مشروب کو نہ خود پیو اور نہ ہی کسی مسلمان کو پلاؤ۔ پس قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے۔ کوئی آدمی بھی ایسا نہیں ہے کہ اس نے کبھی نشے کی لذت طلبی کے لیے شراب کو پیا ہو اور پھر بروز قیامت حق تعالیٰ اس کو شراب پلائیں۔ “