hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 24260

.

ابن أبي شيبة

24260
Ibn Abi Shaybah
(۲۴۲۶۱) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ التَّیْمِیُّ ، عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ یَزِیدَ ، عَنِ ابْنِ عَمٍّ لَہَا ، یُقَالُ لَہُ: أَنَسٌ ، أَنَّہُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُولُ : أَلَمْ یَقُلِ اللَّہُ تَعَالَی : {وَمَا أَتَاکُمَ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوا}؟ قَالُوا: بَلَی ، قَالَ: أَلَمْ یَقُلَ اللَّہُ تَعَالَی: {وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلاَ مُؤْمِنَۃٍ إذَا قَضَی اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَمْرًا}؟ قَالَ: فَأَشْہَدُ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ نَہَی عَنْ نَبِیذِ النَّقِیرِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَالدُّبَّائِ، وَالْحَنْتَمِ۔ (نسائی ۵۱۵۴)
(٢٤٢٦١) حضرت اسماء بنت یزید، اپنے چچا زاد (جن کو انس کہا جاتا تھا) سے روایت کرتی ہیں کہ انھوں نے حضرت عبداللہ ابن عباس کو کہتے سُنا کہ کیا یہ فرمان خداوندی نہیں ہے۔ (ترجمہ) ” اور رسول تمہیں جو کچھ دیں وہ لے لو اور جس چیز سے منع کریں اس سے رُ ک جاؤ “ ؟ لوگوں نے کہا۔ کیوں نہیں۔ پھر حضرت ابن عباس نے کہا۔ کیا یہ کلام خداوندی نہیں ہے۔ ” اور جب اللہ اور رسول کسی بات کی حتمی فیصلہ کردیں تو نہ کسی مؤمن مرد کے لیے یہ گنجائش ہے۔ نہ کسی مؤمن عورت کے لئے۔ “ ؟ پھر حضرت ابن عباس نے فرمایا : میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر گواہی دے کر یہ بات کہتا ہوں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نقیر، مزفت ، دُباء اور حنتم کی نبیذ سے منع فرمایا ہے۔