(۲۴۲۶۰) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ عُمَیْرٍ الْعَبْدِیِّ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : أَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَیْسِ ، فَلَمَّا أَرَادُوا الاِنْصِرَافَ قَالُوا : قَدْ حَفِظْتُمْ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کُلَّ شَیْئٍ سَمِعْتُمْ مِنْہُ ، فَسَلُوہُ عَنِ النَّبِیذِ ؟ فَأَتَوْہُ فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، إِنَّا بِأَرْضٍ وَخِمَۃٍ لاَ یُصْلِحُنَا فِیہَا إِلاَّ الشَّرَابُ ، قَالَ : فَقَالَ : وَمَا شَرَابُکُمْ ؟ قَالُوا : النَّبِیذُ ، قَالَ : فِی أَیِّ شَیْئٍ تَشْرَبُونَہُ ؟ قَالُوا: فِی النَّقِیرِ ، قَالَ : فَلاَ تَشْرَبُوا فِی النَّقِیرِ ، قَالَ : فَخَرَجُوا فَقَالُوا : وَاللَّہِ لاَ یُصَالِحُنَا قَوْمُنَا عَلَی ہَذَا ، فَرَجَعُوا فَسَأَلُوہُ ، فَقَالَ لَہُمْ مِثْلَ ذَلِکَ ، ثُمَّ عَادُوا ، فَقَالَ لَہُمْ : لاَ تَشْرَبُوا فِی النَّقِیرِ فَیَضْرِبَ مِنْکُمُ الرَّجُلُ ابْنَ عَمِّہِ ضَرْبَۃً لاَ یَزَالُ مِنْہَا أَعْرَجَ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ ، قَالَ : فَضَحِکُوا ، قَالَ : مِنْ أَیِّ شَیْئٍ تَضْحَکُونَ ؟ قَالُوا: یَا رَسُولَ اللہِ ، وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ لَقَدْ شَرِبْنَا فِی نَقِیرٍ لَنَا فَقَامَ بَعْضُنَا إِلَی بَعْضٍ ، فَضَرَبَ ہَذَا ضَرْبَۃً عَرِجَ مِنْہَا إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔ (الطبرانی ۱۲۲)
(٢٤٢٦٠) حضرت اشعث بن عمیر عبدی، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں عبد القیس کا وفد حاضر ہوا۔ پس جب انھوں نے واپس جانے کا ارادہ کیا تو انھوں نے (باہم) کہا۔ تم نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وہ ساری چیزیں محفوظ کرلی ہیں جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تم نے سُنی ہیں۔ تو (اب) تم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نبیذ کے بارے میں پوچھ لو ؟ چنانچہ وہ لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آگے اور انھوں نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم ایک ناموافق زمین میں ہیں۔ جس میں ہمیں ایک خاص مشروب ہی موافق آتا ہے۔ راوی کہتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا۔ ” تمہارا مشروب کیا ہے ؟ انھوں نے کہا۔ نبیذ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا۔ ” تم کس چیز (برتن) میں اس کو پیتے ہو ؟ “ ان لوگوں نے کہا نقیر میں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ ” تم نقیر میں نبیذ نہ پیو۔ “ راوی کہتے ہیں۔ پس یہ لوگ باہر نکل آئے اور انھوں (ایک دوسرے سے) کہا۔ خدا کی قسم ! ہماری قوم اس بات پر تو ہمارے ساتھ مصالحت نہیں کرے گی۔ چنانچہ یہ لوگ واپس پلٹے اور انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سوال دوبارہ پوچھا۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں پہلے کی طرف ہی جواب دیا۔ انھوں نے ایک مرتبہ پھر سوال دوہرایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے ارشاد فرمایا : ” نقیر میں نبیذ نہ پیو کہ (کہیں ایسا نہ ہو) تم میں سے کوئی یہ نقیر اپنے چچا زاد کو دے مارے اور وہ بیچارہ قیامت کے دن تک لنگڑا ہی ہوجائے۔ “ راوی کہتے ہیں۔ اس پر وہ لوگ ہنس پڑے۔ آپ نے پوچھا۔ ” تم کس بات پر ہنس رہے ہو ؟ “۔ انھوں نے عرض کیا۔ قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔ واقعۃً ہم نے اپنے ایک نقیر میں نبیذ پی تھی۔ پھر ہم میں سے کوئی کھڑا ہوا اور اس نے یہ نقیر کسی کو دے مارا اور وہ شخص اس ضرب کی وجہ سے تاقیامت لنگڑا ہوگیا۔